بھٹکل17/دسمبر (ایس او نیوز) ملک میں ریاستوں اور اضلاع کی سرحدوں کا مسئلہ سالہا سال سے چل رہا ہے اور کبھی کبھار یہ ایک بڑے تنازع کی شکل بھی لیتا ہے۔لیکن اب نیشنل ہائی وے کے توسیعی منصوبے کے ساتھ جو نیا ٹول پلازہ شیرور اور بھٹکل کے درمیان تعمیر ہوا ہے اس کو لے کر نئے سرحدی مسئلے نے سر ابھارا ہے۔
بھٹکل تعلقہ کے بیلکے اور ایلوڈی کاور گرام پنچایت کے عوام نے مطالبہ کیاہے کہ انگریزوں کے زمانے میں بنائے گئے نقشے کے مطابق یہ علاقہ بھٹکل کی سرحد میں اور ان گرام پنچایتوں کے حدود میں آتا ہے اس لئے اس نئے ٹول پلازہ کو اڈپی ضلع کے حدود میں واقع شیرور ٹول پلازہ کے بجائے ضلع شمالی کینرا کے بھٹکل ٹول پلازہ کا نام دیا جانا چاہیے۔کیونکہ ٹول پلازہ کا %90حصہ بیلکے گرام پنچایت کے حدود میں آتا ہے۔اس کے علاوہ اڈپی شاہراہ پر 500میٹر کا علاقہ اترکنڑا ضلع کا ہے۔اور اس کے دستاویزی ثبوت موجودہیں۔
شیرور کو لے کراڈپی ضلع اور شمالی کینرا کی سرحدیہ مسئلہ ابھی پچھلے ایک دو مہینے سے عوامی بحث اور تنازع کے طور پرزادہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔کیونکہ اس سے قبل ایک اندازے کے تحت دونوں اضلاع کے سرحدی علاقے کی نشاندہی سے کام چلایاجارہا تھا۔اب ملک بھر میں شہروں، تعلقہ جات، اضلاع اور ریاستوں کو از سر نوتھری ڈی نقشہ تیا رکرنے کے لئے چونکہ انگریزوں کے زمانے میں تیار کیے گئے نقشے کو ہی بنیاد بنایا جارہا ہے، اس کی وجہ سے مزید نئے مسائل پیدا ہونے لگے ہیں۔
بیلکے گرام پنچایت کے صدر رمیش نائک کا کہنا ہے کہ انگریزوں کے زمانے میں کی گئی سرحدوں کی نشاندہی کے مطابق شیرور سے قریب واقع آڈی بیرو، نوجو، ہیربوڈکی، کیکوڈ اور دیگر کئی دیہات ضلع شمالی کینرا کے حدود میں آتے ہیں۔ اس کے باوجود اڈپی ضلع پولیس کی طرف سے یہاں چیک پوسٹ لگا کر گاڑیوں کی تلاشی لینے جیسے کام انجام دئے جارہے ہیں۔اور ضلع شمالی کینرا کی سامان لانے اور لے جانے والی گاڑیوں کو روکتے ہیں۔ اس سے یہاں کے عوام کو تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے۔کیونکہ یہاں پر اڈپی ضلع پولیس چیک پوسٹ پر موجود افسران ضلع شمالی کینرا سے پتھر اور ریت وغیرہ ان قصبوں کی طرف لانے یا لے جانے کی اجازت نہیں دیتے۔چیک پوسٹ ایسے مقام پر قائم ہے جس کی وجہ سے اب ان علاقوں میں موجود گاؤں والوں کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ نہ وہ اڈپی ضلع کی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور نہ ہی شمالی کینرا کی رعایتوں سے استفادہ کرسکتے ہیں۔بیلکے گرام پنچایت ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ ضلع شمالی کینرا کی حدود میں آنے والے تقریباً1.5کلو میٹر علاقہ پر اڈپی ضلع انتظامیہ نے قبضہ کرلیا ہے۔ اس لئے بیلکے گرام پنچایت کی طرف سے دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کومیمورنڈم دیا جاچکا ہے کہ ضلع شمالی کینرا کے حدود میں اڈپی ضلع پولیس کا چیک پوسٹ جو موجود ہے، اسے نقشے کے مطابق اڈپی ضلع میں منتقل کیاجائے۔لیکن ابھی تک اس تعلق سے دونوں میں سے کسی بھی ضلع کے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ اعلیٰ افسران اس مسئلے پر فوری توجہ دیں اور جلدہی اپنی سرگرمیاں شروع کرنے والے ٹول گیٹ پلازہ کے سلسلے میں دستیاب نقشے اور دستاویزات کی روشنی میں فیصلہ کریں۔